Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

امام اعظم ابو حنیفہ حدیث کے بھی امام اعظم تھے


مخالفین ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ : 
"امام ابو حنیفہ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی".
 جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تصانیف میں ذکر کردہ ستر ہزار(70000) سے زیادہ احادیث اور ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے فقہ حنفی کے مسائل، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں، کہ امام ابو حنیفہ کے پاس بڑی مقدار میں احادیث کریمہ موجود تھیں۔
ہم اس مختصر تحریر میں اس موضوع سے متعلق کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ سر دست ہم صرف چند حوالے پیش کرتے ہیں؛ جن سے امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا کثیر الحدیث ہونا بخوبی معلوم ہوجائے گا۔

---پہلا حوالہ---
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک نشست میں تین سو حدیثیں زبانی سنادیں۔

امام عبد اللہ بن فروخ فارسی مالکی (م ١٧٦/ھ) فرماتے ہیں:
کہ ایک دن میں امام ابو حنیفہ کے ساتھ آپ کے گھر بیٹھا ہوا تھا، اچانک گھر کی چھت سے ایک اینٹ گری اور میرا سر زخمی ہو گیا؛ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: " اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس چوٹ کی دیت (خون بہا) دے دوں ، یا آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کے بدلے تین سو (300) حدیثیں سنا دوں؛ تو علامہ عبد اللہ بن فروخ نے کہا : مجھےحدیثیں سنا دیجیئے!
امام اعظم نے ان کو تین سو احادیث سنا دیں۔

(ریاض النفوس،از علامہ ابوبکر مالکی صفحہ١٨١/ مطبوعہ دار الغرب الاسلامی بیروت)۔

(ترتیب المدارک، از امام قاضی عیاض مالکی، ج٣/، ص١٠٩/ مطبوعہ وزارۃ الاوقاف، المغرب) ۔

-- دوسرا حوالہ --
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گھر بھر کر حدیث کی کتابیں تھیں.

علامہ سید مرتضی حسینی بلگرامی، زبیدی رحمۃ اللہ علیہ(م ١٢٠٥/ھ)" عقود الجواھر المنیفۃ فی أدلۃ مذھب الامام أبی حنیفۃ" میں رقم طراز ہیں : کہ یحی بن نصر فرماتے ہیں: کہ میں نے (امام) ابوحنیفہ سے ایک گھر میں ملاقات کی جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا؛ میں نے کہا: یہ کیسی کتابیں ہیں؟، آپ نے فرمایا : "یہ سب حدیثیں ہیں، میں نے ان میں سے صرف اتنی حدیثیں لوگوں کو سنائی ہیں؛ جن سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے".

(عقود الجواھر المنیفۃ، از علامہ مرتضی حسنی زبیدی، ج١/ ص٨٠/ مطبوعہ،الجامعۃ الاشرفیۃ، مبارکپور، اعظم گڑھ)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دو درجن حدیث کی کتابیں نہیں تھیں، بلکہ آپ کے پاس اتنی زیادہ کتابیں تھیں کہ ان سے پورا گھر بھرا ہوا تھا۔
کیا اس کے بعد بھی کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی!!

--- تیسرا حوالہ---
امام اعظم ابو حنیفہ کو پانچ لاکھ (500000)سے زیادہ احادیث زبانی یاد تھیں.
 
ابن تیمیہ کے شاگرد ، علامہ ابن القیم (م٧٥١/ھ) "اعلام الموقعین" میں لکھتے ہیں:
کہ ایک شخص نےحضرت امام احمد بن حنبل(م٢٤١/ھ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص ایک لاکھ (100000)احادیث یاد کرلے تو کیا وہ فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا:نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا دو لاکھ(200000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: کیا تین لاکھ(300000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا چار لاکھ(400000) احادیث سے فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما: اب وہ لوگوں کو فتوی دینے کے لائق ہو سکتا ہے۔

(اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیۃ، ج١/ص ٤٥/ مطبعۃ السعادۃ، مصر)۔

(امام احمد بن حنبل سے ایک روایت پانچ لاکھ کی بھی ہے).

اسی طرح کا سوال امام الجرح والتعدیل حضرت یحی بن معین (تلمیذ امام محمد، استاذ امام بخاری ) رحمۃ اللہ علیہ (م٢٣٣/ھ) سے بھی کیا گیا تھا ، تین مرتبہ آپ نے فتوی دینے سے منع کیا، سائل نے چوتھی مرتبہ آپ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص پانچ لاکھ (500000) احادیث یاد کرنے کے بعد فتوی دے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اب وہ فتوی دے سکتا ہے۔

( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ، از علامہ احمد بن خطیب بغدادی، ج٢/ ص ١٧٤/ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ریاض۔)

امامین جلیلین احمد بن حنبل، یحی بن معین علیہما الرحمۃ کے مذکورہ اقوال سے پتا چلا کہ ایک ادنی مجتہد کے لیے چار یا پانچ لاکھ احادیث کا مجموعہ یاد ہونا ضروری ہے، اس سے کم میں اس کو فتوی دینا یا اجتہاد کرنا جائز نہیں؛ تو جس ہستی کو امام سفیان ثوری،امام دار الہجرت امام مالک، امام شافعی، امام عبد اللہ بن مبارک جیسے جلیل القدر ائمۂ اسلام، بحر تحقیق کے شناور، حزم واحتیاط کے اساطین نے مجتہد ہی نہیں بلکہ امام المجتہدین تسلیم کیا ہو، اور کبھی "إنه أفقه أهل الأرض" اورکبھی "إنه لفقيه "، کبھی"الفقهاء في الفقه عيال على أبي حنيفة "، کبھی"أفقه الناس " کہہ کر ان کی مجتہدانہ شان کو بیان کیا ہو، اس بابرکت ہستی کو کتنی احادیث ازبر ہوں گی؟ اس کا اندازہ لگاپانا مشکل امر ہے۔


ایک ضروری بات کی وضاحت!

یہ جو اوپر بیان ہوا کہ مجتہد کے لیے کم از کم چار یا پانچ لاکھ احادیث یاد
ہونا ضروری ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ احادیث کی صرف اتنی مقدار حفظ کرنے سے وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوجائے گا۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی حدیثیں یاد کرنے کے ساتھ دوسرے علوم و فنون میں بھی مہارت رکھتا ہو۔
علمائے اصول نے اپنی تصنیفات میں مجتہد کی چند شرطیں ذکر کی ہیں، جن کے تحقق کے بغیر بندہ مجتہد نہیں ہو سکتا۔
طوالت سے بچتے ہوئے ہم ذیل میں حافظ مشرق، علامہ خطیب بغدادی ( م ٤٦٣/ ھ) کی کتاب"الفقیہ والمتفقہ " سے ان شرائط کا ذکر مناسب سمجھتے ہیں؛ جن کو علامہ خطیب نے حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ سے روایت کیا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ: مجتہد کو مندرجہ ذیل صفات سے متصف ہونا لازمی ہے؛ کہ جن کے بغیر کوئی شخص رتبۂ اجتہاد پر متمکن نہیں ہوسکتا، وہ صفات یہ ہیں:
(١)کتاب اللہ ( قرآن مجید)کے ناسخ و منسوخ، محکم ومتشابہ، تاویل وتنزیل، مکی ومدنی، نیز ان کی مراد، شان نزول کا علم رکھتا ہو۔
(علامہ احمد قسطلانی کے بقول مجتہد کا قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے)
(٢) ناسخ و منسوخ احادیث کا علم اور احادیث سے متعلق ان امور کا علم رکھتاہو؛ جن کا ذکر کتاب اللہ کی شرط میں گذرا۔
(٣) لغات عرب، اشعار عرب اور ان چیزوں سے خوب اچھی طرح واقف ہو جن کی قرآن وحدیث سمجھنے میں ضرورت پیش آتی ہے۔
(٤) انصاف پسند ہو۔
(٥)قلیل الکلام ہو۔
 (٦) فقہا کے اختلاف سے واقفیت رکھتا ہو۔
(٧) "فقیہ النفس"ہو۔ 
(فقیہ النفس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر مقاصد کلام کو اچھی طرح سمجھنے والا ہو ) ۔
فقیہ النفس ہونا ایسی صفت ہے؛ جو انسان کو اپنے کسب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ صفت عطائی ہوتی ہے۔

( الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، ج٢/ ص ١٥٧/ ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)۔

حافظ مغرب، علامہ یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر مالکی، قرطبی علیہ الرحمۃ ( م ٤٦٣/ ھ) نے "جامع بیان العلم وفضلہ" میں شروط مذکورہ پر کچھ شرطوں کا اضافہ کیا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
(٨) سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمیق مطالعہ ہو۔
(٩) حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے احوال سے واقف ہو۔
(١٠) علم اسماۓ الرجال سے واقفیت ہو۔
(١١) مذکورہ اوصاف کے ساتھ عمل صالح، زہد و تقویٰ سے آراستہ ہو۔

(جامع بیان العلم وفضلہ، از علامہ ابن عبد البر مالکی، ج ٢/ ص ١٦٦/ مطبوعہ بیروت)۔

اس مختصر تحریر سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوگئی کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ دوسرے ائمۂ اسلام کی مانند فقہ و حدیث دونوں میں بلند ترین مقام پر فائز تھے؛ مخالفین عصبیت اور اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے امام ہمام کے رتبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے تعصب کی عینک اتارنا ضروری ہے، کیوں کہ:
قد تنكر العين ضوء الشمس من رمد
 وينكر الفم طعم الماءِ من ســــــقم.

کبھی آنکھ آشوب چشم کی وجہ سے آفتاب کی روشنی کا ہی انکار کر دیتی ہے۔
اور منھ بیماری کے سبب پانی کے ذائقے کا منکر ہوجاتا ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بحر علم و فضل سے سیرابی کی توفیق مرحمت فرمائے۔

Post a Comment

0 Comments