Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

وقت نزع سلب ایمان کے وجوہات

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ کے عقیدے کے مطابق، موت کے وقت ایمان چھن جانے (سلبِ ایمان) کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1. عقائد میں بگاڑ اور بدعقیدگی

اگر کوئی شخص دنیا میں کفریہ یا گمراہ عقائد رکھتا ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شرک کرنا، انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام، یا اولیاء اللہ کی گستاخی کرنا، تو اس کا ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے، اور وہ خاتمے کے وقت ایمان سے محروم ہو سکتا ہے۔

2. دین کا مذاق اُڑانا

دینِ اسلام، قرآن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، یا کسی بھی اسلامی حکم کا مذاق اُڑانا سخت گناہ اور بعض اوقات کفر ہوتا ہے۔ اگر کوئی اس حالت میں مرے کہ وہ دین کا مذاق اڑاتا رہا ہو اور توبہ نہ کی ہو، تو ایمان سلب ہو سکتا ہے۔

3. حرام چیزوں میں حد سے تجاوز

بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو مسلسل کرنے سے دل پر مہر لگ جاتی ہے، جیسے سود کھانا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی، زنا، شراب نوشی، اور دیگر کبیرہ گناہ۔ یہ اعمال اگر آدمی کو توبہ سے دور کر دیں اور وہ انہی میں مبتلا مرے، تو ایمان کے بغیر خاتمہ ہو سکتا ہے۔

4. اہلِ بدعت کی صحبت

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ بدعقیدہ اور گمراہ لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے آدمی خود بھی گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص مرتے وقت کسی گمراہ عقیدے پر ہو، تو ایمان سلب ہو سکتا ہے۔

5. زبان سے کفریہ الفاظ نکالنا

موت کے وقت بعض لوگوں کے دلوں پر دنیاوی محبت اتنی غالب آجاتی ہے کہ وہ کفریہ کلمات کہہ دیتے ہیں، مثلاً اللہ سے ناامیدی ظاہر کرنا، تقدیر پر اعتراض کرنا، یا اسلام سے بیزاری ظاہر کرنا۔ ایسے کلمات بعض اوقات ایمان سلب ہونے کا سبب بن جاتے ہیں۔

6. دنیا کی محبت میں غرق ہونا

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ اگر دنیا کی محبت اتنی شدید ہو جائے کہ آخرت کی فکر ہی نہ رہے، تو اس کا نتیجہ سوء الخاتمہ (برا انجام) ہو سکتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے ایمان پر موت دشوار ہو جاتی ہے۔

7. غرور اور تکبر

جو شخص اپنے اعمال پر غرور کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کو بھول جائے، وہ بھی ایمان سے محرومی کا شکار ہو سکتا ہے۔ شیطان بھی تکبر کی وجہ سے مردود ہوا تھا، اور جو شخص تکبر میں مرے، اس کے ایمان پر بھی خطرہ ہوتا ہے۔

نتیجہ

اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ کے مطابق، موت کے وقت ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انسان صحیح عقیدہ رکھے، نیک اعمال کرے، اہلِ سنت کی صحبت میں رہے، اور مرتے دم تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اطاعت میں رہے۔ ورنہ سلبِ ایمان کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھے اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے، آمین!

از :- مولانا محمد حسین رضا صدیقی 

Post a Comment

0 Comments