Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

والدین کے حقوق

  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا رب کی خوشی والد کی خوشی میں ہے اور رب کا غصہ والد کے غصہ میں ہے۔ 
( جامع ترمذی، جلد اول باب البروا لصلۃ)

حضرت ابی رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسو ل کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا :۔اے اللہ کے رسول ﷺ میرے وا لد بہت بو ڑھے ہیں وہ حج اور عمرہ کی قدرت نہیں رکھتے اور سوار بھی نہیں ہو سکتے کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر سکتا ہوں ؟��آپ ﷺ نے فر مایا :تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرلو ۔
(تر مذی ،ابو دا وُد ،نسائی)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم ﷺ نے فر مایا :تین اشخاص ایسے ہیں جن پر اللہ تعا لیٰ نے جنت حرام کر دی ہے ۔ (۱ )ہمیشہ شراب پینے والا( ۲) والدین کا نا فر مان (۳) وہ بے غیرت جو اپنے گھر میں بے حیائی کو ( دیکھنے کے باوجود اسے ) بر قرار رکھتا ہے ۔
(احمد ،نسائی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کسی ایسے آدمی کو نہیں دیکھا جو عادات کے لحاظ سے فا طمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو ۔جب وہ آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کے لئے کھڑے ہو جاتے ، ان کا بو سہ لیتے اور انہیں اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے اور جب آپ ﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تووہ آپ ﷺ کے لئے کھڑے ہو جاتیں ،آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتیں ، آپ ﷺ کا بو سہ لیتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔
( ابو داوُد )

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺنے مجھے دس باتوں کی وصیت فر مائی ۔ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کرنا اگر چہ تمہیں قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے ۔ والدین کی نا فر مانی نہ کر نا اگر چہ وہ تمہیں اس بات کا حکم دیں کہ بیو ی کو چھوڑ دو اور سارا مال خرچ کر دو ۔ فر ض نماز جا ن بو جھ کر نہ چھوڑنا۔کیو نکہ جو شخص فر ض نماز جان بو جھ کر چھو ڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری سے نکل جا تا ہے ۔ شرا ب نہ پینا کیو نکہ یہ ہر برا ئی کی جڑ ہے ۔ اللہ تعا لیٰ کی نا فر ما نی نہ کر نا کیو نکہ نا فر مانی کی وجہ سے اللہ تعا لیٰ کی نا را ضگی اتر تی ہے ۔ میدا ن جنگ سے نہ بھا گنا اگر چہ تمہا رے سا تھی ہلاک ہو جا ئیں ۔جب لو گوں میں مو ت ( و با کی صو رت میں ) عا م ہو جا ئے ( جیسے طا عو ن و غیرہ ) اور تم ان میں مو جو د ہو تو و ہا ں سے نہ بھا گنا ۔ گھر والوں پر اپنی حثییت کے مطابق خرچ کرنا۔ ( تر بیت کے لئے ) ان پر سے لکڑی نہ ہٹا نا ۔ ان کو اللہ تعا لیٰ سے ڈراتے رہنا ۔
(مسند احمد)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا : تین خو بیاں جس شخص میں پا ئی جائیں اللہ تعا لیٰ ( قیامت کے دن )اس کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فر مائیں گے اور اسے جنت میں داخل کر دیں گے ۔کمزور وں سے نرم بر تا ؤ کر نا ، والدین سے مہر با نی کا معا ملہ کر نا اور غلا م سے اچھا سلو ک کر نا ۔
(ترمذی)

حضرت ابو درد اء رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فر ماتے ہو ئے سنا : باپ جنت کے دروازوں میں سے بہتر ین دروازہ ہے ۔ چنا نچہ تمہیں اختیا ر ہے خو اہ ( اس کی نا فر مانی کر کے اور دل دکھا کے ) اس دروازہ کو ضائع کردو یا ( اس کی فر ما نبر داری اور اس کو راضی رکھ کر ) اس دروا زہ کی حفا ظت کرو ۔
( تر مذی )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں۔ میں نے وہاں کسی قرآن پڑھنے والے کی آواز سنی تو میں نے کہا: یہ کون ہے (جو یہاں جنت میں قرآن پڑھ رہا ہے)؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ حارثہ بن نعمانؓ ہیں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نیکی ایسی ہی ہوتی ہے نیکی ایسی ہی ہوتی ہے یعنی نیکی کا پھل ایسا ہی ہوتا ہے۔ حارثہ بن نعمانؓ اپنی والدہ کے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کرنے والے تھے۔
(مسند احمد)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کے شوہر کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی ماں کا ہے۔
(مستدرک حاکم)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ میں نے ایک بہت بڑا گناہ کرلیا ہے تو کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہاری کوئی خالہ ہیں؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو (اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہاری توبہ قبول فرمالیں گے)۔

 *والدین کی عظمت اور مقام و مرتبہ* 

’’والد‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ چار لفظوں سے مرکب ہے۔’’و‘‘ سے ولایت ووَفا والا۔ ’’الف ‘‘ سے اعلیٰ مقام والااور ایثارواُلفت والا۔’’ل‘‘ سے لطف وکرم والا۔ اور ’’د‘‘ سے دانائی اور دست گیری کرنے والااور جب ایسی صفات وخصائل کی حامل شخصیت سامنے آتی ہے تو اسے والد (باپ)کا نام دیاجاتاہے۔
اسی طرح ’’باپ‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے اور یہ تین لفظوں کا مجموعہ ہے یعنی ’’ب‘‘سے برکت وبزرگی والا …’’الف‘‘ سے اساس واصل اورآبیاری والا…اور’’پ‘‘سےپیاروالا۔محبت والفت کے مجموعے کا نا م ’’باپ‘‘ہے۔اگر باپ کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے اس کی اطاعت ،فرماں برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے اس کی رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا کی کامیابیاں ، سعادتیں اورجنت جیسی نعمتیں مل سکتی ہیں۔ماں باپ سی نعمت کوئی دنیا میں نہیں ہے۔والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اگر کسی کویہ نعمت حاصل ہے اوروہ اُن کی خدمت واِطاعت کررہاہے تو وہ بڑاسعادت مند اوراللہ کا محبوب بندہ ہے۔
ہمارے معاشرے میں ماں کا مقام ومرتبہ تو ہرلحاظ سے اجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حدتک نظرانداز کردیا جاتا ہے، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قرآن پاک کے احکامات اور فرامین رسول ﷺ میں والدین کی خدمت واطاعت کا حکم دیاگیا ہے اور ظاہر ہے کہ والدین میں باپ درجہ اوّل کا حامل ہے۔والد انسان کو عدم سے وجود میں لانے والی ذات ہے یعنی اس کی پیدائش کا سبب ہے اس گلشن انسانیت کی ابتداء باپ (حضرت آدم علیہ السلام ) سے ہوئی اور ان ہی سے عورت (حضرت حوا) کا وجود تیار کیا گیاہے۔
والد کی عظمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن انسان اپنے باپ کے نام کے ساتھ پکاراجائے گا۔حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ،’’ قیامت کے دن تمہیں تمہارے ناموں اور تمہارے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا، پس تم اپنے نام اچھے رکھا کرو۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)
اولادکی تعلیم وتربیت میں والد کا کردار ضروری ہوتا ہے،جب کہ اس کے برعکس ماں کی حد سے زیادہ نرمی اور لاڈ پیارسے اولاد نڈراور بے باک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی تعلیم ،تربیت اورکردار پر بُرا اثر پڑتا ہے،جب کہ والد کی سختی،نگہداشت اورآنکھوں کی تیزی سے اولاد کو من مانیاں کرنے کا موقع نہیں ملتا۔شایدیہی وجہ ہے کہ اولاد باپ سے زیادہ ماں سے قریب ہوتی ہے، لیکن اولادیہ نہیں جانتی کہ اس کے والد کو گھر چلانے اور تعلیم وتربیت کا مناسب اہتمام کرنے کی لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔باپ ہی ہوتا ہے جو اپنے اہل وعیال اور اولادکو پالنے کے لیے خود بھوکا رہ کریا روکھی سوکھی کھاکرگزارہ کرتا ہے، لیکن پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھاکھانا، پینا،تعلیم اور تربیت میسرہو ۔
اسلام میں والدین کابہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہدلیاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ۔رشتہ داروں ، یتیموں،مسکینوں اورلوگوں سے (ہمیشہ)اچھی بات کہو۔ ‘‘ (سورۃ البقرہ)اسی طرح سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔’’اورآپ کے پروردگارکافرمان ہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیاکرو،اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘تک نہ کہواور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرو اور اپنے بازو نہایت عاجزی اورنیازمندی سے ان کے سامنے جھکادو اور( ان کے لئے یوں دعائے رحمت کرو) اے میرے پروردگار!تواِن پر(اس طرح) رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا تھا‘‘۔(سورہ بنی اسرائیل)اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں اپنی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت واطاعت انتہائی ضروری ہے حتیٰ کہ والدین اولاد پر ظلم وزیادتی بھی کریں تب بھی اولاد کو انہیں جواب دینے کی اجازت نہیں،جھڑکناتو درکنار ،اُن کے سامنے ’اُف‘ تک کہنے کی بھی اجازت نہیں۔سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو،(تم سب کو )میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ تُجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہرا جس کا تُجھے کچھ علم نہیں تو(اس مطالبۂ معصیت میں )ان کی اطاعت ہر گز نہ کرو، (لیکن اس کے باوجود ) دُنیا میں ان سے حسن سلوک کرتے رہو۔ ‘‘(سورہ لقمان)
اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسولﷺ کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں ۔ اُن کی رائے کو ترجیح دیں ۔ خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئیں ، اپنی مصروفیات میں سے مناسب و قت اُن کے لیے خاص کردیں۔اُن کی بھر پور خدمت کریں اور ان کی وفات کے بعدان کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت ورحمت کرتے رہیں ، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے،’’اور(ان کے حق میں یوں دعائے رحمت کرو ) اے ہمارے رب!ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا‘‘۔(سورہ بنی اسرائیل) حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لیے ، اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت وبخشش کی دعامانگتے ہیں۔جس کاقرآن پاک نے اس طرح ذکرکیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (بخش دے)اور سب مسلمانوں کو(بخش دے)، جس دن حساب قائم ہوگا‘‘۔(سورہ ابراہیم)ماں باپ کے انتقال کے بعدبھی ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس کی کئی صورتوں میں سے ایک دعائے مغفرت کرنابھی شامل ہے۔ جس سے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں بلند فرما دیتا ہے تو وہ بندہ عرض کرتا ہے کہ’’ اے میرے رب! یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ،’’تیری اولاد کی دعائے مغفرت کی بدولت (تُجھے یہ بلند درجہ دیا گیا ہے)۔‘‘(مسائل اربعین)ایک اورحدیث شریف میں ہے کہ ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرناان کے لیے صدقہ جاریہ ہے ۔حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کاسلسلہ ختم ہو جاتا ہے،لیکن تین چیزوں کا نفع اس کو(مرنے کے بعدبھی) پہنچتا رہتا ہے۔۱۔ صدقہ جاریہ۲۔ایسا علم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہوں۳۔نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتی ہو۔حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اورمحبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں ) ایک حج مقبول کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔صحابہ کرام نے عرض کیا ،اگر وہ ہر روز سو بار دیکھے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، اللہ سب سے بڑا ہے اور(اس کی ذات ) بہت پاک ہے ،(یعنی اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں،وہ سوحج کاثواب بھی عطافرمائے گا۔‘‘(مشکوٰۃ ،البیہقی فی الشعب )حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کے رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ) صلہ رحمی کرے۔ ‘‘(الحدیث)ایک اور اہم بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اولاد پر اپنے بیوی بچوں کی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت اور کفالت اور ان کی ضروریاتِ زندگی (کھاناپینا،لباس، علاج )کو پورا کرنا بھی اولادپر فرض ہے ،اس کے ساتھ اُن کی ضروریات کے مطابق مخصوص رقم ہرمہینے اُن کوپیش کی جائے تا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کر سکیں۔ حضور سید عالم ﷺ نے والدین کی خدمت و اطاعت کو جہاد ایسی عظیم عبادت وسعادت پر بھی ترجیح دی حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس جہاد میں شریک ہونے کی غرض سے حاضر ہواتو نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں با پ زندہ ہیں؟ ‘‘اس نے کہا ،’’ جی ہاں، زندہ ہیں۔‘‘ آپ ﷺنے فرمایا،’’جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو، یہی تمہار اجہاد ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ،مشکوٰہ المصابیح)اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اورنیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔ والدین کے حقوق ادا کرنادر حقیقت اللہ کی تابعداری ہے، پس اس لحاظ سے ان کی خدمت اﷲتعالیٰ کی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں مضمرہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،’’وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا ،عرض کیا،کون یارسول اللہ ﷺ؟آپ ﷺنے فرمایا،’’جس نے اپنے ماں باپ میں دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (اُن کی خدمت نہ کر کے) دخولِ جنت کا حق دار نہ بن سکا۔ ‘‘(مسلم، مشکوٰۃ)ماں باپ کی خدمت کاثواب جہاد سے بھی بڑھ کر ہے اوراس کااجروثواب حج اور عمرے کے برابر ہے۔ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے، اس سے عمراوررزق میں اضافہ ،عبادات اور دعائیں اللہ پاک کی بارگاہ میں ضرورقبول ہوتی ہیں۔ماں باپ کی نافرمانی کرنایا اُنہیں اَذیت وتکلیف دینا گناہِ کبیرہ اور بہت بڑی محرومی ہے۔ماں باپ کے نافرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتااور موت سے پہلے ہی اُسے دنیا میں ذلت و رسوائی اور اپنے کئے کی سزاملتی ہے۔والدین کے حقوق کی ادائیگی کواس طرح ممکن بنایاجاسکتاہے کہ والدین کے ہر نیک حکم کی تعمیل کی جائے ۔ اُن کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کی جائے۔ اُن کے آرام وسکون اور خوشیوں کا خیال رکھا جائے۔والدین کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ میں کیاجائے۔والدین کے رشتہ داروں اور دوستوں کااحترام کیاجائے۔والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتا رہے اور ایصالِ ثواب کا تحفہ بھیجتا رہے تا کہ وصال کے بعدبھی ان کے اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ بہترین نیکی یہ (بھی ) ہے کہ ماں باپ کے تعلق داروں کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کیا جائے۔‘‘والدین کی دعائیں اولاد کے حق میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔پس یہ ہمارا انسانی، اخلاقی اور دینی فرض ہے کہ ہم اپنے والدین کی دل وجان سے خدمت واطاعت کریں کہ اسی میں ہمارے لیے دین ودنیا کی کامیابی،سعادت اور فلاح ونجات ہے۔

Post a Comment

0 Comments