Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

 (1)اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتےجن پر چڑھتے۔اور ان کے گھروں کے لیےچاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے۔اور طرح طرح کی آرائش اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے

(پارہ:25 سورۃ الزخرف رکوع:9 آیت: 33 تا 35)


(2)کفار کامال و دولت اور عیش و عشرت دیکھ کر مسلمانوں کا حال


(3)جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش

(پارہ:27سورۃ الحدید آیت:20)


(4)دنیا کی حقیقت


(5)بیشک ہم نے زمین کا سنگار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں

(سورۃ الکہف آیت:7)


(6)بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ

(سورۃ الحدید آیت:21)


(7)دنیاکےبارے میں اَحادیث اور اَقوالِ بزرگانِ دین


(8)دنیا کی محبت کم کرنےکا عمدہ طریقہ

(1)

قرآنِ مجید


وَ لَوْلَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَ()وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـٴُـوْنَ()وَ زُخْرُفًا-وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا-وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ()


 ترجمۂِ کنز الایمان


اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے۔اور ان کے گھروں کے لیے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے۔اور طرح طرح کی آرائش اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

(پارہ:25 سورۃ الزخرف رکوع:9 آیت: 33 تا 35)

تفسیر صراط الجنان


[وَ لَوْلَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں کی) ایک جماعت ہوجائیں گے۔]

اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس بات کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں کے مال و دولت کی کثرت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں گے تو ہم ضرور کافروں  کو اتنا سونا چاندی دیدیتے کہ وہ انہیں پہننے کے علاوہ ان سے اپنے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر وہ چڑھتے اور وہ اپنے گھروں  کے لئے چاندی کے دروازے بناتے اور بیٹھنے کے لئے چاندی کے تخت بناتے جن پر ٹیک لگا کر بیٹھتے اور وہ طرح طرح کی آرائش کرتے، کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں ، یہ بہت جلد زائل ہونے والا ہے اوریہ جو کچھ ہے سب دُنْیَوی زندگی ہی کا سامان ہے جس سے انسان بہت تھوڑا عرصہ فائدہ اٹھا سکے گا اور آخرت تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ان پرہیزگاروں  کے لیے ہے جنہیں دنیا کی چاہت نہیں ۔

(تفسیرِ خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۵، ۴ / ۱۰۵)

(2)

کفار کا مال و دولت اور عیش و عشرت دیکھ کر مسلمانوں کا حال:


اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کافروں کے مال و دولت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر لوگ کافر ہوسکتے ہیں ۔ اس کی صداقت آج کھلی آنکھوں  سے دیکھی جا سکتی ہے ،گو کہ سبھی کافروں کا مال و دولت اور عیش و عشرت اس مقام تک نہیں  پہنچا کہ وہ چاندی سے اپنے گھروں کی تعمیرات شروع کر دیں لیکن اس وقت جو کچھ ان کے پاس موجود ہے اس کی چَمک دَمَک دیکھ کر ،دُنْیَوی ترقی دیکھ کردینِ اسلام سے ناراض دکھائی دیتے اور خود پر کافروں کے طور طریقے مُسلَّط کئے ہوئے ہیں ۔

یاد رہے کہ دنیا کا عیش و عشرت اور اس کا سازوسامان عارضی ہے جو کہ ایک دن ضرور ختم ہو جائے گا جیساکہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

(3)

قرآنِ مجید


اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا-وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ()


 ترجمۂ کنز الایمان


جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن ہوگیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال ۔

(پارہ: 27 سورۃ الحدید آیت:20)

(4)

دنیا کی حقیقت:


اس آیت میں دنیا کی حقیقت بیان کی جا رہی ہے تاکہ مسلمان اس کی طرف راغب نہ ہوں  کیونکہ دنیا بہت کم نفع والی اور جلد ختم ہوجانے والی ہے۔اس آیت میں  اللہ تعالٰی نے دنیا کے بارے میں پانچ چیزیں اور ایک مثال بیان فرمائی ہے۔وہ پانچ چیزیں یہ ہیں


(۱ -۲)دنیا کی زندگی توصرف کھیل کود ہے جو کہ بچوں کا کام ہے اور صرف اس کے حصول میں محنت و مشقت کرتے رہنا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔


(۳)دنیا کی زندگی زینت و آرائش کا نام ہے جو کہ عورتوں  کا شیوہ ہے۔


(۴ ـ۵)دنیا کی زندگی آپس میں  فخرو غرور کرنے اور مال اور اولاد میں  ایک دوسرے پر زیادتی چاہنے کا نام ہے ۔ اور جب دنیا کا یہ حال ہے اور اس میں  ایسی قباحتیں  موجود ہیں  تو اس میں  دل لگانے اور اس کے حصول کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے ان کاموں  میں  مشغول ہونا چاہئے جن سے اُخروی زندگی سنور سکتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے دُنْیَوی زندگی کی ایک مثال ارشاد فرمائی کہ دنیا کی زندگی ایسی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایاہوا سبزہ کسانوں  کو اچھا لگتا ہے ، پھر وہ سبزہ کسی زمینی یا آسمانی آفت کی وجہ سے سوکھ جاتا ہے تو تم اس کی سبزی(سبز رنگ) جاتے رہنے کے بعد اسے زرد دیکھتے ہو ،پھر وہ پامال کیا ہوا بے کارہوجاتا ہے۔یہی حال دنیا کی اس زندگی کا ہے جس پر دنیا کا طلبگار بہت خوش ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی امیدیں  رکھتا ہے لیکن وہ انتہائی جلد گزر جاتی ہے ۔ اس دنیا کے مقابلے میں  آخرت ہے جس میں  اللہ تعالٰی کا سخت عذاب بھی ہے جو دنیا کے طلبگاروں ، لَہْو و لَعب میں  زندگی گزارنے والوں  اور آخرت سے بے پرواہ لوگوں  کیلئے ہے جو بطورِ خاص کفار ہیں جبکہ دوسری طرف آخرت میں  اللہ تعالٰی کی طرف سے بخشش اور اس کی خوشنودی بھی ہے جو اس آدمی کیلئے ہے جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دی۔ اورحقیقت یہ ہے کہ دنیاکی زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔ دنیا دھوکے کا سامان اس کے لئے ہے جو دنیا ہی کا ہوجائے اور اس پر بھروسہ کرلے اور آخرت کی فکر نہ کرے اور جو شخص دنیا میں  رہ کر آخرت کا طلبگار ہو اور دُنْیَوی اَسباب سے بھی آخرت ہی کے لئے تعلق رکھے تو اس کے لئے دنیا آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

(تفسیرِصاوی ، الحدید ، تحت الآیۃ : ۲۰ ، ۶ / ۲۱۰۹- ۲۱۱۰،

تفسیر کبیر ، الحدید ، تحت الآیۃ : ۲۰، ۱۰ / ۴۶۳-۴۶۴،

تفسیرِخازن، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴ / ۲۳۰-۲۳۱،

تفسیرِمدارک، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۱۲۱۰-۱۲۱۱، ملتقطاً)

(5)

ترجمۂِ کنز الایمان


بیشک ہم نے زمین کا سنگار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں ۔ اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان کر چھوڑیں گے۔

(پاره:15سورۃ الکہف آیت:7 تا 8)



اِس آیت میں  دنیا کی ناپائیداری اور قابلِ فنا ہونے کو بیان فرمایا ہے کہ جو کچھ زمین پر ہے قیامت کے دن وہ سب کا سب خشک میدان کی طرح بنا دیا جائے گا جس پر کوئی رونق نہیں ہوگی اور زمین کو اس کے آباد ہونے کے بعد ویران کردیا جائے گا اور حیوانات، نباتات اور اس کے علاوہ جو بھی چیزیں  اس کیلئے باعثِ زینت تھیں ان میں  سے کچھ بھی باقی نہ رہے گالہٰذا ایسی فانی چیز سے کیا دل لگانا ۔


لہٰذا مسلمانوں کو دنیا کے عیش عشرت اور مال و دولت کی طرف راغب نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے اپنے حق میں ایک آزمائش یقین کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے بخشش و مغفرت کا پروانہ پانے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک کوشش کرنی چاہئے ،جیساکہ دنیا کی فَنائِیَّت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :

(6)

قرآنِ مجید


سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِِّنْ رَّبِِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ-اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ()


 ترجمۂِ کنز الایمان


بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔

(پارہ:27 ركوع:19 سورۃ الحدید آیت:21)


اور اس پر اِستقامت پانے کے لئے اس حقیقت کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ دنیا کا جتنا سازو سامان اور جتنی عیش و عشرت ہے، اس سب کی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں مَچّھر کے پَر جتنی بھی حیثیت نہیں ،جیساکہ حضرت سہل بن سعد رضی اللّٰه تعالٰی عنه سے روایت ہے،نبی اکرم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگراللہ تعالٰی کے نزدیک دنیا مَچّھر کے پر کے برابر بھی قَدۡرۡ رکھتی توکافرکو اس سے ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ہوان الدّنیا علی اللّٰہ، ۴ / ۱۴۳)


اور حضرت مُستَورِد بن شداد رضی اللّٰه تعالٰی عنه سے مروی ہے،نبی اکرم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم اپنے نیاز مندوں کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں ایک مُردہ بَکری دیکھی تو ارشاد فرمایا: ’’تم دیکھ رہے ہو کہ اس کے مالکوں نے اسے بہت بےقَدۡرِی سے پھینک دیا، دنیا کی اللہ تعالٰی کے نزدیک اتنی بھی قدر نہیں جتنی بَکری والوں کے نزدیک اس مَرِی ہوئی بَکری کی ہو۔

(ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ہوان الدّنیا علی اللّٰہ، ۴ / ۱۴۴)


اور جب اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  دنیا کی یہ حیثیت ہے تو دنیا کا مال و دولت اور عیش و عشرت نہ ملنے پر کسی مسلمان کو غمزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے شکر کرنا چاہئے کہ اللہ تعالٰی نے اسے اس چیز سے بچا لیا جس کی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کوئی حیثیت نہیں  ۔ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللّٰه تعالٰی عنه سے روایت ہے،نبی کریم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا’’ جب اللہ تعالٰی اپنے کسی بندے پر کرم فرماتا ہے تو اُسے دنیا سے ایسا بچاتا ہے جیسا تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاتے ہو۔

(ترمذی، کتاب الطّب، باب ما جاء فی الحمیۃ، ۴ / ۴)


 اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰه تعالٰی عنه سے روایت ہے،حضوراقدس صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔

(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۲)

(7)

دنیا کے بارے میں اَحادیث اور اَقوالِ بزرگانِ دین:


 حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰه تعالٰی عنه سے روایت ہے،نبی اکرم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا’’ دنیا ملعون ہے اور اس کی ہر چیز بھی ملعون ہے البتہ دنیا میں  سے جو اللہ تعالٰی کے لئے ہے وہ ملعون نہیں ۔

(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف الزای الزہد، ۲ / ۷۷، الجزء الثالث)


 حضرت عبد اللہ بن مِسور ہاشمی رضی اللّٰه تعالٰی عنه سے روایت ہے،رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ا س بندے پر انتہائی تعجب ہے جو آخرت کے گھر کی تصدیق کرتا ہے لیکن وہ دھوکے والے گھر (یعنی دنیا) کے لئے کوشش کرتا ہے۔

(مسند شہاب، الباب الثالث، الجزء الخامس، یا عجبا کل العجب... الخ، ۱ / ۳۴۷)


 حضرت ذوالنُّون رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں  کہ اے مریدین کے گروہ! دنیا طَلَب نہ کرو اور اگر طَلَب کرو تو اس سے محبت نہ کرو، یہاں سے صرف زادِراہ لو کیونکہ آرام گاہ تواور ہے(یعنی آخرت ہے۔)

(تفسيرِمدارک، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۱۲۱۰-۱۲۱۱)

(8)

دنیا کی محبت کم کرنے کا عمدہ طریقہ:


 دنیا کی محبت دور کرنے کا سب سے عمدہ طریقہ یہی ہے کہ اس کی فنائیت میں غور کیا جائے ، آدمی جتنا اس میں  غور کرتا جاتا ہے اتنی ہی دنیا کی محبت اس کے دل سے کم ہوتی جاتی ہے۔ دنیا کی محبت کم کرنے کیلئے امام غزالی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے کلام سے اسی آیت سے متعلقہ کچھ کلام پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں : جو شخص دنیا میں  آتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی میزبان کے پاس کوئی مہمان ہو اور اس میزبان کی یہ عادت ہو کہ ہمیشہ مہمانوں  کے لیے مکان آراستہ رکھتا ہو ، لہٰذا اس نے مہمانوں  کو یکے بعد دیگرے بلا کر ان کے سامنے انتہائی خوبصورت برتنوں  میں  عمدہ ڈِشیں  سجائیں ، چاندی کی انگیٹھیوں  میں  عود اور اگر بتیاں  سلگائیں ، کمروں میں اعلٰی قسم کا اسپرے کروایا تاکہ مہمانوں کے دماغ معطر رہیں  اور خوب فرحت و سکون پائیں ۔ عقلمند مہمان ان جملہ لَوازمات سے خوب لطف اندوز ہوتا ہے اور رخصت کے وقت اپنے اعزاز و اکرام کی بِناء پر میزبان کا شکریہ ادا کرتا ہے لیکن بیوقوف مہمان اس بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے کہ میزبان نے یہ جتنا اہتمام کیا ہے اور یہ سبھی اَشیاء اسے دینے ہی کے لئے سجائی ہیں تاکہ رخصت کے وقت انہیں اپنے ساتھ لے جائے۔ وہ اسی میں پڑا رہتا ہے کہ رخصت کے وقت اس کے سامنے سے تمام چیزوں  کو اُٹھا لیا جاتا ہے۔ جب خالی ہاتھ پلٹتا ہے تو بڑا کبیدہ خاطر، رنجیدہ اور نادم ہوتا ہے بلکہ روتا ہے کہ ہائے میرے ساتھ کیا ہوا۔ یونہی یہ دنیا مہمان خانہ ہے، اس کے سامانِ آرائش و زیبائش کو دیکھ کر الجھ نہیں  جانا چاہئے، کہیں  ایسا نہ ہو کہ اس کے حرص ، طمع اور لالچ میں  گرفتار ہو جائیں  اور موت کا وقت سر پہ آن پہنچے، پھر سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

(کیمیائے سعادت، عنوان سوم: معرفت دنیا، فصل چہارم، ۱ / ۹۵)


امام اہلِ سنت اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اشعار کی صورت میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ،



دنیا کو تو کیا جانے یہ بِس کی گانٹھ ہے حرافہ


صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے


شہد دکھائے، زہر پلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کُش


اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے


نوٹ:- دنیا کی حقیقت اور ا س کے بارے میں  مزید تفصیل جاننے کے لئے امام غزالی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی مشہور تصنیف ’’احیاء العلوم‘‘ کی تیسری جلد میں  موجود باب ’’دنیا کی مذمت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔

دعا ہے

اللّٰه عَزّ وَجَلَّ

پیارےمحبوبﷺو

انبیاۓِکرام(علیھم السّلام)و

صحابہ کرام(علیھم الرضوان)و  اولیاۓِعظام(رحمہم اللّٰه)کےصدقےمیں

میری اورجملہ مومنین ومومنات کی مغفرت فرمائے(آمین)

Post a Comment

0 Comments